اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں امریکی فوج کی حفاظت کا بیڑا اٹھانے والی سکیورٹی فرم بلیک واٹر نے یمن میں سعودی عرب کی شکست یقینی ہونے کے بعد 9 فروری کو فیصلہ کیا کہ اپنی ٹاسک فورس کو صوبہ تعز کے العمری محاذ سے ہٹادیا جائے۔
ذرائع کے مطابق، بلیک واٹر کا یہ فیصلہ العمری میں اس کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے کیونکہ اب تک اس محاذ پر اس کے 70 افراد ہلاک اور 30 اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔ نیز 3 افراد لاپتہ ہیں۔
اس سے پہلے 9 دسمبر 2015 کو بلیک واٹر کا اہم کمانڈر جو مکسیکن یمن میں ہلاک ہوا تھا۔ اس سے ایک دن قبل بلیک واٹر کے آسٹریلوی کمانڈر سمیت کولمبیا کے سات اہلکار بھی صوبہ تعز میں یمنی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
واضح رہے کہ یمن کی جنگ میں ناکامی کے بعد سعودی عرب نے بلیک واٹر کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر یہ حربہ بھی بہت کارآمد ثابت نہیں ہوا اور دھیرے دھیرے بلیک واٹر کے اہلکار یمن کی زمین چھوڑنے لگے ہیں اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب سعودی عرب کے پاس اس جنگ میں کامیابی کا کوئی آپشن نہیں بچا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169